The Urdu Poetry Podcast

The Urdu Poetry Podcast

Ahsan Tirmizi
Land Pakistan
Sprache UR
Folgen 25
Letzte 27.06.2026

The Urdu Poetry Podcast connects listeners with the rich tradition of Urdu poetry, featuring modern ghazals and timeless classics from master poets. It is designed for both Urdu scholars and beginners, offering joy and knowledge through the beauty of the language. Listeners can immerse themselves in the wisdom of Urdu poetry and share their opinions with the host via email.

Folgen

  • Haqeeqat e husn (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi 27.06.2026 1Min.
    If you enjoyed this episode, please share it with your friends and family. And if you haven't already, be sure to follow the podcast on your favorite podcast app so you never miss a new episode.You can also send your suggestions, feedback, or episode requests to theurdupoetrypodcast@gmail.com.I'll be looking forward to hearing from you. :)
  • Banjarah (Javed Akhtar) - Ahsan Tirmizi 05.05.2026 3Min.
    Send your suggestions/requests at theurdupoetrypodcast@gmail.com
  • Farsh e naummidi e deedar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi 11.02.2026 2Min.
    Send your suggestions/requests at theurdupoetrypodcast@gmail.com
  • Dorahe (Kafeel Aazar Amrohvi) - Ahsan Tirmizi 15.06.2025 1Min.
    کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گیکب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گیکب تلک منا سے شادی کے کرو گی تذکرےخواہشوں کی آگ میں جلتی رہو گی کب تلکچھٹیوں میں کب تلک ہر سال دلی جاؤ گیکب تلک شادی کے ہر پیغام کو ٹھکراؤ گیچائے میں پڑتا رہے گا اور کتنے دن نمکبند کمرے میں پڑھو گی اور کتنے دن خطوطیہ اداسی کب تلککب تلک نظمیں لکھو گیرؤو گی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تلکبائبل میں کب تلک ڈھونڈو گی زخموں کا علاجمسکراہٹ میں چھپاؤ گی کہاں تک اپنے غمکب تلک پوچھو گی ٹیلیفون پر میرا مزاجفیصلہ کر لو کہ کس رستے پہ چلنا ہے تمہیںمیری بانہوں میں سمٹنا ہے ہمیشہ کے لیےیا ہمیشہ درد کے شعلوں میں جلنا ہے تمہیںکب تلک خوابوں سے دھوکے کھاؤ گی
  • Chand ke tamannai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi 29.10.2024 2Min.
    شہر دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی جاں گداز تنہائی روح و جاں کو ڈستی ہے روح و جاں میں بستی ہے شہر دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ شکیبائی صورتوں کی زیبائی قامتوں کی رعنائی ان سیاہ راتوں میں ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کس کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنائی یہ نگر کبھی پہلے اس قدر نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریۂ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک ساماں تھا آج دل میں ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہئے با وفا نہ ہرجائی پھر بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بن لئے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں وہ رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں میں دوستوں کی باتوں میں جی نہ چین پائے گا اور اوب جائے گا آہٹوں سے گونجے گی شہر دل کی پنہائی اور چاند راتوں میں چاندنی کے شیدائی ہر بہانے نکلیں گے آرزو کی گیرائی ڈھونڈنے کو رسوائی سرد سرد راتوں کو زرد چاند بخشے گا بے حساب تنہائی بے حجاب تنہائی شہر دل کی گلیوں میں
  • Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi 12.10.2024 4Min.
    مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں دو پاؤں بنے ہریالی پر ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر کچھ جگمگ جگنو جنگل سے کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے یہ ایک کہانی نیند بھری اک تخت پہ بیٹھی ایک پری کچھ گن گن کرتے پروانے دو ننھے ننھے دستانے کچھ اڑتے رنگیں غبارے ببو کے دوپٹے کے تارے یہ چہرہ بنو بوڑھی کا یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں السائی ہوئی رت ساون کی کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی اک چوٹ کسکتی کولھے کی سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں اک چہرہ کتنی آڑوں میں کچھ چاندنی راتیں گرمی کی اک لب پر باتیں نرمی کی کچھ روپ حسیں کاشانوں کا کچھ رنگ ہرے میدانوں کا کچھ ہار مہکتی کلیوں کے کچھ نام وطن کی گلیوں کے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ چاند چمکتے گالوں کے کچھ بھونرے کالے بالوں کے کچھ نازک شکنیں آنچل کی کچھ نرم لکیریں کاجل کی اک کھوئی کڑی افسانوں کی دو آنکھیں روشن دانوں کی اک سرخ دلائی گوٹ لگی کیا جانے کب کی چوٹ لگی اک چھلا پھیکی رنگت کا اک لاکٹ دل کی صورت کا رومال کئی ریشم سے کڑھے وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی آواز شکستہ جاموں کی کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے کچھ بکھرے تنکے چلمن کے کچھ پرزے اپنے دامن کے یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے کچھ شعر پرانی غزلوں کے عنوان ادھوری نظموں کے ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی اک خشک قلم اک بند گھڑی مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے کچھ بگڑی بگڑی تصویریں کچھ دھندلی دھندلی تحریریں کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں
  • Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi 06.07.2024 2Min.
    Feel free to share your opinions with me at theurdupoetrypodcast@gmail.com nazm: تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا
  • Sab Maaya Hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi 29.06.2024 2Min.
    Sab Maaya Hai by Ibn e Insha: سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے سب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے سب مایا ہے اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے سب مایا ہے معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشاؔ بھی فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے سب مایا ہے کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے؟ سبب مایا ہے جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں تم جانتے ہو ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے سب مایا ہے وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے سب مایا ہے جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے سب مایا ہے جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے سب مایا ہے
  • Taaruf (Nun meem Rashid) - Ahsan Tirmizi 25.05.2024 1Min.
    اجل، ان سے مل، کہ یہ سادہ دل نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب، نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب، نا اہل کتاب نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین فقط بے یقین اجل، ان سے مت کر حجاب اجل، ان سے مل! بڑھو، تم بھی آگے بڑھو اجل سے ملو، بڑھو، نو تونگر گداؤ نہ کشکول دریوزہ گردی چھپاؤ تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ! بڑھو بندگان زمانہ بڑھو بندگان درم اجل یہ سب انسان منفی ہیں منفی زیادہ ہیں انسان کم ہو ان پر نگاہ کرم
  • Ek ladka (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi 20.05.2024 1Min.
    ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے آج میلہ لگا ہے اسی شان سے آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں پر وہ چھوٹا سا الھڑ سا لڑکا کہاں
  • Ek dost ki khushmazaqi par (Majaz) - Ahsan Tirmizi 12.05.2024 1Min.
    نظم: ہو نہیں سکتا تری اس ''خوش مذاقی'' کا جواب شام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب رکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاق اڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاق چھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاں دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحاب جس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب اک نگارش آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہوا جیسے عارض پر عروس نو کے ہو رنگ حیا شانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شب آسماں میں منعقد ہونے کو ہے بزم طرب اڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیور آ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نور دیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیں کیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیں کیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیں کیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیں کیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتا تیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صدا سبزہ و گل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیں اف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیں حسن فطرت کی لطافت کا جو تو قائل نہیں میں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں
  • Manzar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi 07.05.2024 1Min.
    Aadab! Intezaar ka bohat shukriya. Hazir hu ik nayi nazm ke saath.
  • Raqeeb se (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi 28.11.2022 2Min.
    آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
  • Itna maloom hai (Parveen Shakir) - Ahsan Tirmizi 06.10.2022 2Min.
    اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟ آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟ میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا - کٹھن سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں ''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا! اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟ مجھ کو پوچھا تھا - مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟ اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے - اور پھر ہنس دی اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا
  • ye mahlon ye takhton ye tajon ki duniya (Sahir Ludhianvi) - Ahsan Tirmizi 06.07.2022 1Min.
    یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
  • Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi 25.05.2022 1Min.
    مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
  • Numuu (Obaidullah Aleem) - Ahsan Tirmizi 03.12.2021 2Min.
    میں وہ شجر تھا کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں کہ میں اک آواز کا سفر تھا عجب شجر تھا کہ اس مسافر کا منتظر تھا جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو پھر نہ اٹھے جو میری شاخوں پہ آئے جھولے تو سارے موسم یہیں گزارے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر کا جو چھوڑ آیا تھا کتنی شاخیں مگر لگا یوں کہ جیسے اب وہ شکستہ تر ہے وہ میرے خوابوں کا ہم سفر ہے سو میں نے سائے بچھا دئیے تھے تمام جھولے ہلا دئیے تھے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر تھا کہ لمحے بھر میں گزر چکا تھا میں بے نمو اور بے ثمر تھا مگر میں آواز کا سفر تھا سو میری آواز کا اجر تھا عجب شجر تھا عجب شجر ہوں کہ آنے والے سہ کہہ رہا ہوں اے میرے دل میں اترنے والے اے مجھ کو شاداب کرنے والے تجھے مری روشنی مبارک تجھے مری زندگی مبارک
  • Jis roz qazaa aayegi (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi 24.10.2021 1Min.
    کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اول شب بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب نیم وا کلیوں سے سر سبز سحر یک بیک حجرۂ محبوب میں لہرانے لگے اور خاموش دریچوں سے بہ ہنگام رحیل جھنجھناتے ہوئے تاروں کی صدا آنے لگے کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور تہہ نوک سناں کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ از کراں تا بہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی خواہ قاتل کی طرح آئے کہ محبوب صفت دل سے بس ہوگی یہی حرف وداع کی صورت للہ الحمد بہ انجام دل دل زدگاں کلمۂ شکر بہ نام لب شیریں دہناں
  • Woh kitaab (Zehra Nigah) - Ahsan Tirmizi 16.10.2021 1Min.
    مری زندگی کی لکھی ہوئی مرے طاق دل پہ سجی ہوئی وہ کتاب اب بھی ہے منتظر جسے میں کبھی نہیں پڑھ سکی وہ تمام باب سبھی ورق ہیں ابھی تلک بھی جڑے ہوئے مرا عہد دید بھی آج تک انہیں وہ جدائی نہ دے سکا جو ہر اک کتاب کی روح ہے مجھے خوف ہے کہ کتاب میں مرے روز و شب کی اذیتیں وہ ندامتیں وہ ملامتیں کسی حاشیے پہ رقم نہ ہوں میں فریب خوردۂ برتری میں اسیر حلقۂ بزدلی وہ کتاب کیسے پڑھوں گی میں؟
  • Har shay musafir har cheez rahi (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi 09.10.2021 1Min.
    ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی یہ بے سوادی یہ کم نگاہی دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے کردار بے سوز گفتار واہی

Beliebt in

Dieser Podcast erscheint auch in den Podcast-Charts dieser Länder.