Urdu Adab
Aoun Sami
0
An effort to share great thoughts and emotions described in best of words by Urdu poets of our times. Urdu poetry podcast.
Епизоди
-
Aaj ki Shab Tu kis Taur Guzar Jaye Gi 07.04.2025 2минBy Parveen Shakir
-
Kabhi Kabhi Meray Dil Main 11.01.2025 3минکبھی کبھی میرے دل میں
-
اگر کبھی میری یاد آئے 18.10.2024 2минIn case you miss me 🎧🎵
-
میں نے غزلیں کہیں 01.10.2024 2минLove Indeed is the strongest emotion. It brings the best out of us. Creativity couldn’t explore its boundaries unless it is seeking the best of it.
-
کبھی مایوس مت ہونا 22.09.2024 5минA motivational Humd
-
کو بہ کو پھیل گئی 30.07.2024 1минکو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی۔۔ اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
-
میرا دل نواز الگ ہے 28.07.2024 1минکچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا، اُس پہ تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رُک گئ گردشِ ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا..! پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گرانِ شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اُس کو نہ پا سکے تھے جب، دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص، وہ جو نہیں مِلا تو پھر ہاتھ دُعا سے یوں گرا، بھول گیا سوال بھی شام کی ناسمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اِک پتا موجِ ہوائے کوئے یار کچھ تو میرا خیال بھی پروین شاکر
-
میں سمجھ گیا۔۔۔۔۔ 21.07.2024 1минمیں سمجھ گیا ۔۔۔ شاید یہی سمجھداری ہے
-
زیست کا استعارہ ہو جاۓ 22.06.2024 1минزیست کا استعارہ ہو جاۓ اب تو کوئی ہمارا ہو جاۓ ہے کڑا وقت اس پہ شعر کہو شاید اِس سے گزارا ہو جاۓ عین ممکن ہے عشق میں تم کو حد سے بڑھ کر خسارہ ہو جاۓ تم کسی کے کبھی ہوۓ ہو کہاں کوئی کیسے تمہارا ہو جاۓ کیا مقدر میں تھا لکھا میرے کاش کوئی اشارہ ہو جاۓ دن گزر جاۓ گا مسرت سے آپ کا گر نظارہ ہو جاۓ پہلے جیسی کبھی نہیں ہوتی گر محبّت دوبارہ ہو جاۓ تم نظر بھر کے دیکھ لو جس کو وہ چمکتا ستارا ہو جاۓ عشق خود کہہ رہا تھا شوبی سے سب پہ مت آشکارہ ہو جاۓ
-
فصیلِ جان میں کتنے شِـگاف کـرتا ھـوں؟ 09.06.2024 2минفصیلِ جان میں کتنے شِـگاف کـرتا ھـوں عشق پہ جب"شین کاف"کرتا ھوں مرا خُدا تو ھےسب کی سلامتی کا خُدا خُدائےکُشت سے میں اِنحراف کرتا ھوں نِزار فہم کو ھے تـابِ ارتداد کہاں یہ لَن ترانیاں اپنے خلاف کرتا ھوں مرےخمیر میں فرعونیت کا عُنصر ھے بطور ایک بشر اعتراف کرتا ھـوں میں وہ نہیں ھوں جو جَل جاؤں روشنی سے تری میں رکھ کے فاصلہ تیرا طواف کرتا ھوں مرے سُخن میں ھے آیاتِ آگہی کا غُلُو رُموزِ نَحوِ خودی اِنکشاف کرتا ھـوں مرے رفیـق مری شفقتوں پہ نازاں ھـیں میں دشمنوں کو بھی فوراً معاف کرتا ھوں ترے فراق سے مشروط ھے وصال مرا سو عمر بھر کے لیے اعتکاف کرتا ھوں گلی گلی میں تعفُّن ھے نفرتوں کا اَمـؔـر گلاب بانٹتا ھـوں ، خـار صـاف کـرتا ھـوں امـؔـر رُوحانی
-
محبت مستقل غم ہے 12.05.2024 2минسَاغر صدّیقی ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻏﻢ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ جو آنسو رنگ لے آےٓ وہی دامن کا شہ پارہ جسے اَرماں کا خُوں دے کر بنام آرزو سینچا ! خدا جانے کہاں ہے وہ جہان زندگی آرا مِرا ذوقِ خریداری ہے اِک جنسِ گراں مایہ کبھی پھُولوں کے شیدائی کبھی کانٹوں کا بنجارہ جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکر و فراست بھی وہاں ہر جُستجو جُھوٹی ' وہاں ہر عَزم ناکارہ بَسا اوقات چُھو لیتی ہَے دامن کبریائی کا تمہاری جنبشِ اَبرو ' مِری تخلیقِ آوارہ نہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیں جہاں کچھ آدمی کرتے ہیں اپنے دَرد کا چارہ تِرے گیسو خیالوں کی گرفتِ ناز سے گزرے کہ جیسے ایک جوگی بَن میں لہراتا ہے دو تارہ پلٹ آےٓ ہیں شاید انقلابِ دید کے لمحے نظر کی وُسعتوں میں ڈوبتا جاتا ہے نظّارہ فقط اِک ہاتھ میں ٹوٹا ہوا ساغؔر اُٹھانے سے لَرز اٹھا ہے اے یزداں تِری عظمت کا مینارہ
-
متاع الفاظ 11.05.2024 3мин”متاعِ الفاظ“ یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو ھم اِسی چھوٹی سی دنیا کے ، کسی رَستے پر اتفاقاً ، کبھی بُھولے سے ، کہیں مل جائیں کیا ھی اچھا ھو کہ ، ھم دوسرے لوگوں کی طرح کچھ تکلف سے سہی ، ٹہر کہ کچھ بات کریں اور اِس عرصۂ اخلاق و مروت میں ، کبھی ایک پل کے لیے ، وہ ساعتِ نازک ، آ جائے ناخنِ لفظ ، کسی یاد کے زخموں کو چُھوئے ایک جھجھکتا ھُوا جملہ ، کوئی دُکھ دے جائے کون جانے گا ؟ کہ ھم دونوں پہ ، کیا بیتی ھے ؟ یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو اِس خامشی کے اندھیروں سے ، نکل آئیں ، چلو کسی سلگتے ھُوئے لہجے سے ، چراغاں کر لیں چن لیں پھولوں کی طرح ، ھم بھی متاعِ الفاظ اپنے اُجڑے ھُوئے دامن کو ، گلستاں کر لیں یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو دولتِ درد بڑی چیز ھے ، اقرار کرو نعمتِ غم ، بڑی نعمت ھے ، یہ اِظہار کرو لفظ ، پیماں بھی ، اِقرار بھی ، اظہار بھی ھیں طاقتِ صبر اگر ھو تو ، یہ غم خوار بھی ھیں ھاتھ خالی ھوں تو ، یہ جنسِ گراں بار بھی ھیں پاس کوئی بھی نہ ھو پھر تو ، یہ دلدار بھی ھیں یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو
-
اک فسردہ داغ میں ہے 01.05.2024 5минاک حرف فسردہ داغ میں ہے اک بات بُجھے چراغ میں ہے اک نام لہو کی گردشوں میں طوفان میں ڈولتا سفینہ ڈوبے نہ بھنور کے پار اُترے اک شام کہ جس کے بام و در کو ہاری ہوئی صبح سے شکایت رُوٹھے ہوئے چاند کی تمنّا اک راہ نورد جو یہ چاہے پاؤں نہ حدِ وفا سے نکلے سر سے نہ سفر کا بار اُترے پتّا تھا ابھی ہَرا سفر کا کچّی تھی ابھی صدا کی ٹہنی کیوں ریشۂ برگِ کم نمو میں پھر آتشِ رنگ جل اُٹھی ہے کیوں صبح کی بے عمل سپہ نے ہتھیار سجا لیے بدن پر مقتل میں صفیں درست کی ہیں کیوں درد کے جھٹپٹے کی حد پر پھر ہجر غروب ہو رہا ہے پھر نظم طلوع ہو رہی ہے میں کون جو انجمِ سحر سے اثبات و ثبوتِ ذات چاہوں دریا سے حسابِ آب مانگوں صحرا سے تعینات چاہوں مہتاب سے چاندنی کا معیار مضراب سے زخمِ نغمۂ تار میں کون شمار کرنے والا میں اپنی صدا سے ڈرنے والا بارش سے سفال بھرنے والا میں کون سوال کرنے والا کاغذ پہ سُلگتی شامِ الہام تختی پہ سپیدۂ سحر ہے اے سطرِ نمودِ ذات، تیرا کس ساعتِ معتبر میں گھر ہے اس بام پہ میرے نام کی خشت دیوار پہ دَھر ایاغ میرا مہتاب کو میرے روبرو کر آئینہ ہو مجھ پہ داغ میرا مجھ پر بھی کُھلیں حدود میری مجھ کو بھی ملے سراغ میرا میں کون؟ کہاں مِرا سفر ہے اے سطرِ نمودِ ذات میرا کس ساعتِ بے زماں میں گھر ہے اک تیرِ مفاہمت سے رشتہ صیّاد میں، صَید میں، ہدف میں اک سیلئی موج سے ہیں پیدا سو رابطے ساحل و صدف میں میں اپنا حریف ڈھونڈتا ہوں اک لشکرِ دردِ صف بہ صف میں اُترے یہ سنانِ حرفِ وعدہ خود میرے کنار میں، طرف میں شاید کہ ثبوتِ ذات پاؤں میں اپنی عبارتِ حلف میں اختر حسین جعفری
-
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں 14.04.2024 1минہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
-
عارض اشکوں سے ۔۔۔۔ 08.04.2024 2минعارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے خاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتے دیکھ سکتا ہوں زمانے کی بدلتی نظریں تیرے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے آئنہ بھی رخ روشن کے مقابل نہ رہے ہم سے کوئی ترے ہمسر نہیں دیکھے جاتے دل کے ساگر میں جو ہر شام و سحر اٹھتے ہیں وہ تلاطم کبھی باہر نہیں دیکھے جاتے مسکراتے ہوئے چہرے پہ نظر سب کی پڑی زخم دل کے مگر اکثر نہیں دیکھے جاتے حسن کے جلوے جو دیکھے ترے دیوانے نے ہوش والوں سے وہ اکثر نہیں دیکھے جاتے قدر کر قدر مرے ذوق نظر کی ساقی سب حسیں یوں تو مکرر نہیں دیکھے جاتے میکدہ اپنا ہے اور بادہ و ساقی اپنے غیر کے ہاتھ میں ساغر نہیں دیکھے جاتے یہ حسیں وادی و دریا گل و گلزار حبیبؔ بن ترے مجھ سے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے
-
تمہیں میں کسطرح دیکھوں؟ 07.04.2024 3минEndless expression of an emotion in just one instance
-
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں 05.04.2024 1минWords can only describe they are just references most of the time
-
ہم ناراض ہیں تم سے 03.04.2024 1минسنو !
-
اک منٹ 23.03.2024 4минاک منٹ
-
ہم نے تجھ جانا ہے فقط تیری عطا سے 20.03.2024 3минرمضان سپیشل
Популарен во
Овој подкаст се појавува и на подкаст-листите на овие земји.