خطبات

خطبات

Rahimia Institute of Quranic Sciences
Država Pakistan
Jezik UR
Epizode 569
Zadnja 27.09.2026

یہ پوڈکاسٹ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ، لاہور، پاکستان کی پیشکش ہے۔ اس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں جمعہ کے خطبات اور دینی مضامین پیش کیے جاتے ہیں۔ پروگرام کا مقصد عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کرنا اور ان کی روزمرہ زندگی کے مسائل کا اسلامی راہنمائی میں حل بتانا ہے۔ مزید معلومات کے لیے ادارے کی ویب سائٹ www.rahimia.org اور فیس بک پیج @rahimiainstitute ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

Epizode

  • ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز | 25-09-2026 27.09.2026 1h 18min
    ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 12؍ ربیع الثانی 1448ھ / 25؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَا اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(146) وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّا اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(147) (3 –آل عمران:146، 147) ترجمہ : ” اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے۔ اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے رب ہمارے بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:39 سماجی معاہدات اور قوم کی ترقی کے لیے سچی لیڈر شپ کی ضرورت و اہمیت 4:23 گذشتہ جمعہ کے مضامین کا خلاصہ؛ سابقہ اقوام کے اجتماعی جرائم، غلط قیادت کا تسلط: مہلت کے بعد اللہ کی گرفت 6:56 شدید مخالفت اور اذیت کے باوجود حضرت نوحؑ کی صبر و استقامت کے ساتھ قانون شکن اور گمراہ قوم کی ہدایت کے لیے ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ 10:58 عاد و ثمود اور قومِ موسیٰؑ پر اترنے والے عذاب کی شکلیں اور بنیادی وجوہات 15:05 ظالم قوموں پر عذاب کی دوشکلیں نیز حضرت موسیٰؑ کے دور میں پہلی بار تربیت یافتہ جماعت نے منظم قوت کے ساتھ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لیے قومِ عمالقہ کے خلاف جہاد و قتال کیا 19:08 بنی اسرائیل کی کنعان سے مصر ہجرت کے بعد حضرت یوسفؑ کی قیادت میں ان کی تمدنی اور شہری تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا 22:48 خطبے میں تلاوت کی گئی آیت میں ’رِبِّیُّون‘(دس دس ہزار افراد پر مشتمل منظم اور تربیت یافتہ جماعتیں) اور ظالم طاقتوں کے خلاف ان کے جماعتی کردار کی توضیح و تشریح 25:12 غزوۂ احد کے موقع پر نازل ہونے والی آیتِ مبارکہ (آلِ عمران: 146) کا پسِ منظر 29:43 چار انبیاءؑ کی جدوجہد کا شعوری تسلسل، حضرت موسیٰؑ کی جدوجہد سے خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کا ظالم و جابر قومِ عمالقہ کے خلاف منظم کردار 35:09 نبوت کا نیا رنگ؛ جماعت کی بنیاد پر قومی اور بین الاقوامی انقلاب برپا کرنے والے دو اولو العزم انبیاءؑ 36:52 ’رِبِّیُّون‘ کا معنی و مفہوم نیز حضرت موسیٰؑ کی قومی جدوجہد سے نبی اکرمؐ تک ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعتوں (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل 41:01 غزوۂ احد کے موقع پر جماعتِ صحابہؓ کو ’رِبِّیُّون‘ کی اساس پر اجتماعی کردار ادا کرنے کی دعوت 45:37 نبی کی تربیت یافتہ ربیّ جماعت‘ مصائب و مشکلات کے وقت اور دشمن کے آگے وہن (ذہنی شکست) اختیار نہیں کرتی 47:59 مسلمانوں میں ’وَہن‘ سے سامراجی غلبے تک: ذہنی کمزوری، وسائل پر قبضہ اور سامراج کا تسلط نیز ان کے مدمقابل‘ اپنے وسائل کی حفاظت کرنے والے ’رِبِّیُّون‘ 51:38 ربّی جماعت کی پہلی خصوصیت: وَہن (ذہنی شکست اور دشمن کا خوف) اختیار نہیں کرتی 54:44 دوسری اور تیسری خصوصیت: ضعف (جسمانی کمزوری) اور استکانت (ٹوٹ کر بکھرنے) سے اجتناب 57:17 ’ضعف‘ اور ’استکانت‘ اختیار نہ کرنے کے تناظر میں حضرت شاہ عبدالرحیم دہلویؒ کی امام شاہ ولی اللہؒ کو کی گئی نصیحت اور مولانا سندھیؒ کے کانگریس کے نام خط کی تفصیلات 1:00:04 ان تین خصوصیات پر جماؤ اختیار کرنے والے ’صابرین‘ سے اللہ محبت کرتا ہے نیز صبر و استقامت کی تین صورتیں 1:03:46 اگلی آیت میں نبوی مشن کی حامل منظم جماعت کی وہن، ضعف اور مسکنت کا مقابلہ کرنے کے لیے توبہ ، ڈسپلن اور استقامت کی دعا 1:07:34 عصری تقاضا اور آیت کی پکار: غلبۂ دینِ محمد ﷺ کے لیے تین صفات کی حامل’ربیّون‘ صفت اجتماعیت کا قیام اور ظلم و جبر کے خلاف منظم قومی کردار ادا کرنے کی ضرورت و اہمیت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت | 18-09-2026 22.09.2026 1h 1min
    عصرِ حاضر کا ابلاغی بحران اور استعماری پروپیگنڈا: قرآنی بصیرت کی روشنی میں خبر کی تحقیق اور فکری و اجتماعی شعور کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 5؍ ربیع الثانی 1448ھ /18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (36) سورۃ بنی اسرائیل:17 (36) ترجمہ: اور جس بات کی تجھے خبر نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑ۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے بازپرس ہو گی۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز خطاب 0:49 دینِ اسلام بطور عظمتِ انسانی کا تکمیلی پیغام 4:18 معاشرتی تبدیلی کے لیے علم و شعور کی اہمیت اور پہلی وحی کا نزول 7:48 جاہلی معاشرے کی علامات اور دینِ اسلام کی حقیقت شناس تعلیمات 11:23 قرآنِ حکیم کا تدریجی نزول اور انسانی معاشرے پر اس کے عملی اثرات 14:31 قرآنِ حکیم میں مذکور علم کے تین ذرائع: سمع، بصر اور عقل 19:20 انسانی ذرائع علم کی ذمہ داریاں اور ان کے محاسبہ کا نظام 23:33 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں جھوٹ کی حقیقت اور موجودہ میڈیا کا کردار 27:32 خبر کی تحقیق میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری کا قرآنی حکم 32:43 قرآنِ حکیم کی راہ نمائی میں خبر کی تحقیق کا ذمہ دار: ملکی سیاسی نظام اور اس کے ادارے 35:54 عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ذرائع ابلاغ کا فریب زدہ نظام اور ہماری شعوری ذمہ داریاں 38:46 موجودہ مسلم معاشرے میں جذباتی رویے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا رجحان 40:11 حضرت اسامہ بن زیدؓ کا میدانِ جنگ میں مخالف کو قتل کرنے کے واقعہ سے راہ نمائی 44:36 عالمی استعمار نظام کا مسلمانوں کی جذباتی بے شعوری سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی 47:39 موجودہ سوشل میڈیائی دور کے منفی رجحانات کا تجزیہ اور ان کا تدارک کی قرآنی راہ نمائی 52:58 عالمِ عرب کی سیاسی قیادت کا موجودہ المیہ 55:18 مغربی پروپیگنڈہ کے ماحول میں قرآنی بصیرت سے راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت 57:58 علم و شعور کی قرآنی دعوت اور ہماری ذمہ داریاں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل | 20-09-2026 20.09.2026 1h 35min
    منصبِ نذیرِ مبین ﷺ کا تاریخی تسلسل : قیامِ عدل اور تحفظِ حرمین شریفین کا لائحۂ عمل خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 05؍ ربیع الثانی 1448ھ / 18؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا-وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ (48) قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (49) (22 -الحج:48، 49) ترجمہ : ” اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے۔ تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر “ ۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 1:33 تاریخِ اقوام کا قرآنی مطالعہ: ماضی کا تجزیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی 4:15 خطبہ کی مرکزی آیات کی تشریح: نبوی منصبِ نذیر مبینﷺ اور 'قریہ ظالمانہ' کے تناظر میں ظالم اقوام کے انجام کا تذکرہ 6:38 تصورِ قریہ نیز تشکیلِ معاشرہ میں عدل، امن اور معاشی استحکام بطور بنیادی ارکان 12:42 سیاسی انتظامِ معاشرہ اور تشکیلِ قریہ: عادلانہ نظام کے لیے صالح قیادت اور نمائندوں کا انتخاب 16:42 حکومت کے دو بنیادی فرائض؛ معاشرتی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنا اور قومی وسائل کو اجتماعی مفاد میں استعمال کرنا 19:29 قریہ ظالمانہ؛ معاشرے پر ظالم، جابر اور استعماری طبقات کا تسلط اور کنٹرول کی چند شکلیں 21:48 بستیوں کی آباد کاری اور بقا و فلاح کا دار و مدار‘ عدل و انصاف پر منحصر 24:07 بستیوں کی تعمیر و ترقی اور قوموں کی شناخت پیدا ہونے میں صدیاں گزر جاتی ہیں نیز ظالم طاقتوں کو ڈھیل اور مہلت دینے (استدراج) کی قرآنی حکمت 30:12 ماضی کی تاریخ اور مقاصدِ بعثتِ انبیاءؑ کی روشنی ظلم پر مبنی بستیوں اور جابر طبقات کی سرکشی اور مہلتِ الٰہی سے غفلت پر گرفت اور عبرت ناک انجام پر اہلِ مکہ کو اِنذار و تنبیہ 37:57 حضرت اسماعیلؑ کا حنیفی اصولِ عشرہ پر ام القریٰ‘ مکہ مکرمہ کی آباد کاری اور عمرو ابن لحی کے دور سے ظلم و کفر کی بنیاد پر بت پرستی کی ابتداءاور ارتقاء کا پسِ منظر 44:38 مکہ میں کسریٰ ایران و قیصرِ روم کی پراکسیز نیز ابراہیمی اصولوں کو چھوڑ کر کسریٰ و قیصر کے نظامِ حکومت کی عادات کو اپنانے والی یرغمال طفیلی ریاست (قریہ ظالمانہ) کا قرآنی نقشہ 50:16 مکہ کی ظالم پر مبنی حکومت کی گرفت اور ملتِ ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیاء کے لیے نبی اکرمﷺ کی بطور نذیرِ مبین‘ بعثت 53:00 نبی اکرمؐ کے وصفِ نذیرِ مبین کے بنیادی اہداف و مقاصد 55:34 نبی اکرمؐ کی دعوت قبول کرکے ابراہیمی حنیفی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے اہلِ ایمان کے لیے ’مغفرت‘ اور ’رزقِ کریم‘ کا قرآنی وعدہ نیز رزق کا وسیع تر مفہوم 59:27 مقدس دھرتی‘ مکہ سے معززین؛ انحضرتؐ اور جماعتِ رسولؐ کی بے دخلی کا مکافاتِ عمل: جابر طبقات کی پکڑ اور عبرت ناک انجام نیز حرمتِ مکہ و مدینہ کی پاسداری 1:04:35 نبیِ رحمت ﷺ کی امن پسند، تحفظِ انسانیت اور مکہ کی قومی طاقت پیدا کرنے کی بصیرت افروز حکمت عملی اور ہزار سالہ عادلانہ نظام کا قیام 1:09:47 عربوں کے بعد عادل ترک (عثمانی و تیموری)حکمران اور کل انسانیت کے لیے پیغامِ نذیرِ مبینؐ کی عالمگیر پاسبانی اور رہنما کردار 1:11:38 ظالم برطانوی شہنشاہیت اور یورپین بھیڑیوں کی ظالمانہ تاریخ، مہلتِ الٰہی کا اِتمام اور برطانیہ و امریکہ کے ظلم و استبداد پر گرفت 1:15:25 مکہ کی مرکزیت کی تباہی اور خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے اور برطانوی تسلط قائم کرنے کے لیے شریفِ مکہ کی ہاشمی خلافت کی سازش، فتویٰ فروشی، حضرت شیخ الہندؒ کا انکار، عرب اقوام کی بغاوت اور آلِ سعود کا تسلط 1:25:29 آبِ زمزم کا جغرافیائی و ہائیڈرولوجیکل نیٹ ورک نیز تحفظِ حرمین شریفین اور عالمی استعمار کا سدِباب: جزیرہ عرب اور خلیجی ممالک کے اتحاد کی ناگزیریت 1:30:22 عرب سرزمین کے تقدس کی پامالی، اللہ کی مہلت اور عرب حکمرانوں کو انذار و تنبیہ 1:33:01 عالمی منظر نامے اور سیاسی حالات پر حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مدنیؒ کے رہنما کردار کو اپنانے کی ضرورت و اہمیت 1:33:59 نبی اکرمﷺ کی وراثت؛ منصبِ نذیرِ مبینؐ اپنانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں| 04-09-2026 16.09.2026 1h 37min
    نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاںخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 21؍ ربیع الاول  1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیتِ قرآنی: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز خطاب1:32 ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ5:49 کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت12:11 نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات15:56 جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت19:25 ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات20:53 نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین24:06 ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات27:53 ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ29:02 نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا30:56 حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد32:46 دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے41:24 خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد44:33 محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل47:54 خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان56:34  خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر)  کی توضیح و تشریح1:07:27 ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ1:12:46 منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے1:14:15 مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور  منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ1:17:47  پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر  کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ)1:23:24 حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے اثرات و نتائج1:24:40 ورثة الانبیاء: علماء کا پانچ نبوی اوصاف اپنانے اور دور کے تقاضے کے مطابق کردار ادا کرنے کی ناگزیر ضرورت1:31:00 پانچ نبوی اوصاف کی اساس پر برعظیم پاک و ہند میں حریت پسند علماء کے کردار و افکار اور ان کی اتباع کی ضرورت و اہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں| 11-09-2026 16.09.2026 1h 3min
    حیات بخش عادلانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے رہنما نبوی ﷺ کردار: موجودہ معاشرتی بے حسی کے تناظر میں خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 28؍ ربیع الاوّل 1448ھ /11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(24) سورۃ الانفال:8 (24) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کا حکم مانو جس وقت تمہیں اس کام کی طرف بلائے جس میں تمہاری زندگی ہے، اور جان لو کہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے، اور بے شک تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 0:00 آغاز 0:53 حیاتِ انسانی کے دو دائرے: مادی حیات اور معنوی حیات 4:53 معنوی حیاتِ انسانی کی خصوصیات 7:16 معنوی حیاتِ انسانی کے ارتقاء میں نبوّت کا کلیدی کردار 8:59 اشیاء کے مقام و مرتبہ کے تعیّن میں ان کے مقاصدِ تخلیق کی اہمیت 13:52 خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت 17:50 ظالم اور مردہ معاشروں کے اِحیاء میں نبوّت کا کردار 22:31 اِحیائے معاشرہ کے لیے نبی اکرم ﷺ کا انسانی مساوات کو بنیاد بنانا 26:32 حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں انسانی جِسم کی مثال کے ذریعے معاشرتی مساوات کی تفہیم 30:23 موجودہ بے حِس اور مردہ معاشرے کی سفاکیت کی حالیہ مثال 35:35 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: طبقاتی نظامِ تعلیم 38:51 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: دولت کی غیر مُنصفانہ تقسیم 42:04 مردہ معاشرے کی نمایاں علامات: جہالت اور بے شعوری کا پھیلاؤ 45:46 توحید کی اساس پر معاشرتی اِحیاء کی نبوی ﷺ جدوجہد کا تعارف 50:38 معاشرتی اِحیاء کے لیے صفاتِ باری تعالیٰ پر غوروفِکر کی قرآنی دعوت 52:48 دین کے حیات بخش اجتماعی نظام کو شعوری طور پر سمجھنے کی ضرورت و اہمیت 55:33 موجودہ معاشرتی بے حِسی کی بنیادی وجہ: نظامِ ظلم 59:52 معاشرتی اِحیاء کا اصل الاصول: ظالمانہ نظام کی بیخ کُنی اور دینی فِکر کی شعوری تفہیم بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے| 11-09-2026 15.09.2026 1h 25min
    فلسفۂ درود و سلام: محبتِ رسول ﷺ، اطاعتِ نبوی ﷺ اور شریعت، طریقت و سیاستِ محمدی ﷺ کے تقاضے خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 28؍ ربیع الاول 1448ھ / 11؍ ستمبر 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ-یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56) اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا (57) (33 -الاحزاب: 56، 57) ترجمہ : ” اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسول پر اے ایمان والو رحمت بھیجو اس پر اور سلام بھیجو سلام کہہ کر۔ جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کو پھٹکار اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب “ ۔ حدیثِ نبویﷺ: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ، وَوَلَدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. (مشكوة المصابيح، كتاب الإيمان، حدیث: 7) ترجمہ: ”تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات ✔️ نبی اکرمﷺ کی محبت،عظمت، ہیبت اور جلال سے روح کا سرشار ہونا‘ مسلمان کا بنیادی فریضہ اور ایمان کا لازمی جزو ✔️ نبی اکرم ﷺ سے محبت دل کی گہرائی سے ہونی چاہیے ✔️خطبہ میں تلاوت کی گئی سورۂ احزاب کی آیات قرانی کا پس منظر ، شانِ نزول اور توضیح و تشریح ✔️ سورۂ احزاب کا پہلا حصہ غزوۂ خندق اور دوسرا حصہ نبی اکرم ﷺ سے متعلق ہدایات اور آپ ﷺکی اطاعت و فرمانبردای پر مشتمل ✔️ انحضرت ﷺ کی رسالت سے قبل قومی انتشار اور زوال سے دوچار عرب معاشرہ اور آپ ﷺ کا صحابہ کرامؓ کی اجتماعیت اور نظم و نسق قائم کرنا ✔️ رسولِ انسانیت ﷺکی اتھارٹی کو ماننے، احکامات اور فیصلوں کی پاسداری میں کسی مؤمن و مؤمنہ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ✔️ سورت کے نصفِ آخر میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق احکامات و واقعات نیز ازواج مطہراتؓ اور اہل بیت کی عظمت و احترام کا بیان ✔️ نبی اکرم ﷺ کی اتھارٹی کا ایک نمایاں پہلو‘ اللہ کی رحمت اور تمام فرشتے اور مقربین بارگاہ الہی آپﷺ کے لیے دعا گو ہیں ✔️ صلوة علی النبیﷺ کا مطلب‘ اللہ کی خاص رحمت، محبت اور انوارت ہر دم آپ ﷺکی ذاتِ گرامی پر جاری ہیں ✔️ حضرت حمد ﷺ کی وساطت سے انواراتِ الہیہ کا کون و مکاں پر فیضان اور ایمان سے سر شار روحیں آپﷺ کے احسانات نہیں اتار سکتیں ✔️ فرشتوں کی نسبت سے صلوة کا معنی و مفہوم‘ دعا مانگنا اور وجہ تخلیقِ کائنات کے احسان کا شکر یہ ادا کرناہے ✔️ نبی اکرم ﷺ کی سالہا سال جدوجہد سے اولو العزم افراد پر مشتمل جماعتِ صحابہؓ کی تیاری، سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر ریاست (عملاً اتھارٹی) کا قیام‘ آپﷺ کے اعلیٰ نظم و نسق اور منصبِ رسالت کا اظہار ✔️ غزوہ خندق کے بعد دشمن طاقت کے رعب کا خاتمہ، عملا آپﷺ کی اتھارٹی کا قیام اور سیاسی و معاشی طاقت کا اظہار ✔️ مسلمانوں کو درود و سلام پڑھنے کا حکم نیز صلوۃ پڑھنے کے لیے درودِ ابراھیمی کی تعلیم ✔️ آپﷺ پر صلوة (درودِ ابراہیمی) پڑھنے کی تعلیم میں پنہاں حکمتیں؛ نبی ﷺ کی محبت میں غلو اور تحریف سے بچنے کے لیے درود میں اللہ تعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کے لیے دعا ✔️ صدق دل سے دعا مانگنے کے اثرات و نتائج نیز دعا میں آلِ محمد (آپ ﷺ کے اہل بیت اور پوری جماعت) شامل ✔️ مولانا سندھیؒ کے نزدیک آل محمد ﷺ سے آپ ﷺ کی اتھارٹی کو دنیا میں نافذ کرنے والے خلفاء راشدینؓ اور پوری جماعت شامل ہے ✔️ امرِ نبوت کا پہلا حصہ‘ وحی الہی کا سلسلہ مکمل اور منقطع ہو گیا لیکن غلبہ دین کی اساس پر جدوجہد تک قیامت جاری ہے ✔️ غلبہ دین کے دو پہلو؛ خلافتِ ظاہرہ (دین کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا غلبہ ) اور خلافتِ باطنہ (علومِ نبوت) کی تعلیم و ترویج ✔️ آلِ محمد ﷺ کا مصداق‘ علوم نبوت کو منتقل کرنے اور انہیں غالب کرنے والی جماعت‘ خواہ نسبی تعلق ہو یا روحانی ✔️خلافتِ ظاہرہ قائم کرنے میں سب سے اعلی کردار ادا کرنے والے حضرات خلفاء راشدینؓ (ابوبکرؓ، عمرؓ ، عثمانؓ اور علیؓ) سب آل محمد ﷺ میں شامل ہیں ✔️ آلِ محمد میں شامل ہونے کے لیے صرف رسول اللہ ﷺ کی نسبی اولاد ہونا کافی نہیں بلکہ وہ علومِ نبوت کا وارث اور ان کے غلبہ کے لیے سراپا جدوجہد ہو ✔️ ماضی کی تاریخ کی یاددہانی اور صلوة کا واضح مطلب؛ امامِ انسانیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیمؑ (بنی اسرائیل و اسماعیل) اور تحریکِ حنیفیت کے پیروکاروں پر رحمت و برکت کی دعا ✔️ صلوة کے معنی و مفہوم میں رحمت کے ساتھ ساتھ برکت بھی شامل نیز برکت کی تعریف و توضیح ✔️ اللہ سے حضرت محمدﷺ اور آلِ محمدﷺ پر برکت نازل کرنے کی التجاء کے اثرات و نتائج ✔️ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیمؑ پر برکات کے اثرات و نتائج ✔️ خلفاء راشدینؓ اور خلفائے بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کے سیاسی غلبے کی صورت میں درود و سلام اور برکاتِ نبوت کے اثرات و نتائج ✔️ ہر مسلمان کو انحضرتﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم اور رسول اللہﷺ کو ایذاء پہنچانے والے آپ ﷺ کی اتھارٹی کو تسلیم نہ کرنے والے دنیا و آخرت میں لعنت اور ذلت آمیز عذاب کے مستحق ✔️ آپ ﷺ کے تذکرہ پر درود پاک پڑھنا‘ اظہارِ محبت، دنیوی و اخروی لعنت (ذلت) سے نجات، رحمت کا حصول اور آپ ﷺ کی اتھارٹی کو تسلیم کرنا ہے ✔️ حضورﷺ کا خوشی کا اظہار اور آپﷺ کا پروٹوکول؛ ہر درود پڑھنے والے کا درود‘ فرشتے بارگاہ رسالت میں پیش کرتے ہیں ✔️ مقامِ نبوت؛ نور محمدی ﷺ نور الہی سے جڑنے کا ذریعہ و واسطہ ✔️ دوردِ پاک پڑھنا رسم نہیں نیز طریقت، شریعت اور سیاستِ محمدی ﷺ کے غلبے کے لیے کردار ادا کرنا‘ اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت | 28-08-2026 02.09.2026 1h 33min
    مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت خطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ: آیاتِ قرآنی: 1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105) ترجمہ : ”اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو“ ۔ 2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔ ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28) حدیثِ نبویﷺ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169) ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات 0:00 آغاز خطاب 2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل 3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا 5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن! 6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے 8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو 10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان 11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے 26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت 27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے 32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے 33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام 33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات 34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم 39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت 42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا 54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت 59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت 1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے 1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے 1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت امام ابو حنیفہؒ کا معاشی لین دین میں دیانت و سچائی کا مشہور واقعہ 1:17:31 سیرتِ نبویؐ کا لازمی تقاضا‘ دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کا قیام ہے 1:21:34 خلفائے راشدین کا دینِ اسلام کے استحکام، حکومتی رٹ قائم کرنے، ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کےلیے بے لاگ کردار 1:26:19 خلافتِ بنو امیہ کے دور میں بلوچستان سے اٹک تک اور بنو عباس کے دورِ خلافت میں لاہور تک فتوحات 1:28:43 اولیاء اللہ کے نزدیک ظلم کی سیاست کی نفی اور دینِ اسلام کی سیاست کی ضرورت اور اہمیت 1:30:15 مولانا الیاس دہلویؒ کا شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت پر مبنی تصورِ دین 1:32:19 یہودی اور عیسائی اپنے دین میں سود کی ممانعت کے باوجود سود خوری کرتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کو اتھارٹی نہیں مانتے 1:33:03 رسول اللہﷺ کے حکمران (اتھارٹی) ہونے کی حیثیت سے عادلانہ حکومت کے قیام کی ناگزیریت بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ| 28-08-2026 31.08.2026 1h 13min
    خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 14؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128) سورۃ التوبہ: 9 (128) ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے، مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ بعثتِ نبویﷺ سے قبل عالمِ انسانیت کے فکری، سماجی اور اخلاقی حالات ✔ انبیائے کرامؑ کو اپنی قوم میں مبعوث کرنے کی سنّت اللہ ✔ اجنبی زبان کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی ظالمانہ روِش کا مقصد ✔ قومی زبان میں تعلیم و تربیت کے اہتمام کا نبوی طریقہ کار ✔ مکہ میں بعثتِ نبویﷺ کے وقت تین اقسام کے معاشرتی طبقات ✔ مکّہ میں قبائلی چپقلش کی وجہ سے بدامنی کا فروغ ✔ نبی اکرمﷺ کی سماجی بصیرت اور کردار ✔ کُل قومی تعمیر و ترقی میں انبیائے کرامؑ کا اساسی کردار ✔ سماجی اور اجتماعی اُمور میں بھرپور شمولیت کا نبوی اُسوہ حسنہ ✔ رسول اکرمﷺ کی قبل از بعثت معاہدہ حِلف الفضول میں شرکت ✔ سیرتِ طیّبہ ﷺ میں معاہدہ حِلف الفضول کی اہمیت ✔ موجودہ سماج میں ظالم طبقات کی بابت بے حِسی و بے شعوری کا جاہلانہ رویّہ ✔ موجودہ ظالمانہ نظام کی سفّاکیت کے شعوری اِدراک کی ضرورت ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قبل از بعثت بھرپور سماجی کردار بطور دلیلِ نبوّت اور مدعیّانِ نبوّت کے ردّ کی کسوٹی ✔ حضرت ابوبکر صدّیق کا سفرِ معراج کی تصدیق کرنا اور مقامِ صدّیقیت کا حُصُول ✔ حضرت خُزیمہؓ کا رسولِ اکرمﷺ کے معاملے کی تصدیق، گواہی دینے کا واقعہ اور اُن کا اِعزاز ✔ رسولِ اکرمﷺ کا اعلیٰ سماجی کردار اور نبوّت کے فرضِ منصبی کا لازم و ملزوم تعلق ✔ حضرتِ خدیجہؓ کی زبانی رسولِ اکرمﷺ کی قبل از بعثت زندگی کا خُلاصہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا بعثت کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کا اجتماعی سماجی نظم و ضبط قائم کرنے کا اُسوہ ✔ رسولِ اکرمﷺ کا قوم کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے انتہائی فکرمندی اور اہلِ ایمان کے لیے حدّ درجہ شفقت کا رویّہ ✔ محبّت رسولﷺ کا بنیادی تقاضا: نبی اکرمﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کی اتباع
  • حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر | 19-09-2025 31.08.2026 57min
    حضور اکرم ﷺ کے جامع دعوتی اُسلوب اور سماجی تشکیل کے لیے اجتماعیت کی تربیّت کے نقطۂ نظر سے دعوتِ فکر خُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه الله بتاریخ: 25؍ ربیع الاوّل 1447ھ / 19؍ ستمبر 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی : قُلْ يَا عِبَادِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّـذِيْنَ اَحْسَنُـوْا فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَاَرْضُ اللّـٰهِ وَاسِعَةٌ ۗ اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِـرُوْنَ اَجْرَهُـمْ بِغَيْـرِ حِسَابٍ۔ (39 - الزمر: 10) ترجمہ: ”کہہ دو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو، ان کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے، اچھا بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین کشادہ ہے، بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز 0:56 حضور اکر م ﷺ زندگی کے تمام شعبوں میں رہنما 04:28 حضور اکر م ﷺ کی امتیازی خصوصیت؛ تمام شعبوں کی رہنما جماعت کی تیاری 08:39 انسانی فلاح کا جامع اور عالمگیر تصوُّر 10:34 حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی حکمتِ عملی اور داعی کے اوصاف 18:06 حضور اکرم ﷺ کی بہ طورِ داعی الی اللہ جدوجہد اور دعوتی حکمتِ عملی 27:49 اہلِ مدینہ کو دعوتِ اسلام 34:53 قبیلۂ اَوس اور قبیلۂ خزرج کی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت اور عہد 37:57 ہجرتِ مدینہ، خدشات، معاہدات؛ مقاصدِ بعثت کے تناظُر میں مطالعہ 43:51 حضور اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد؛ عالمی نظام کا قیام 47:11 ثابت قدم ایمان والی جماعت کے لیے دنیا کی بھلائی اور زمین پر غلبے کا قرآنی تصوُّر 52:38 معاشرے کی اجتماعی ترقی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط؛ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔ https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/ https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا | 21-08-2026 24.08.2026 1h 9min
    دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضاخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 7؍ ربیع الاوّل 1448ھ /21؍ اگست 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیاتوَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(127) رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(128) رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ (129)سورۃ البقرۃ: 2 (127-129)ترجمہ: اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول کر۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو اِن پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ سلسلہ نبوّت کا تاریخی تسلسل اور نبی آخر الزّماںﷺ✔ انسانی معاشرے کی ترقی میں حضرت ابراہیمؑ کا کردار✔ تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کا دعاؤں کے ذریعے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا✔ استقامت کا مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت✔ نئی اجتماعیت کی تشکیل کی بابت حضرت ابراہیمؑ کا ذہنی خاکہ اور اس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا✔ نبوّت اور دین کے لیے اجتماعیت کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کا قیامِ اجتماعیت کے لیے دعا کرنا✔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی قبولیت: مکّہ میں انسانی آبادی کا آغاز اور  تمدّن کا قیام✔ ابراہیمی دعا کے نتیجے میں دارالندوہ کی اجتماعیت کے ذریعے مکّہ کے شہری نظام کا قیام✔ نبی اکرمﷺ کا فرائضِ منصبی کی تکمیل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اختیار کرنا اور قیامِ اجتماعیت کو بنیاد بنانے کا اُسوہ✔ موجودہ دور کا المیہ: سیرتِ نبویﷺ کا انفرادی مطالعہ✔ رسولِ اکرمﷺ کا شعوری بنیادوں پر عام انسان کی سطح پر زندگی گزارنے کا اُسوہ✔ رسولِ اکرمﷺ کا جدوجہد سے بھرپور اور سادہ طرزِ زندگی گزارنے کا لائحہ عمل✔ حقیقی محبّتِ رسولﷺ کی تشریح و توضیح: حضرت شیخ الہندؒ کا شعوری تجزیہ✔ موجودہ دور میں بے شعوری پر مبنی محبّتِ رسولﷺ کے خود ساختہ تصوّرات کا جائزہ✔ سیرتِ نبویﷺ سے  عملی راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت✔ معاشرے میں رائج بے شعوری پر مبنی میلاد منانے کے غلط طریقوں کا تجزیہ✔ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں✔ نبی اکرمﷺ کے چار مناصبِ نبوّت اور مسلمان کا مطلوبہ کرداربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ | 21-08-2026 22.08.2026 1h 14min
    رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 07؍ ربیع الاول  ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:آیتِ قرآنی:وَ مَا  اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً  لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔احادیثِ نبویہﷺ:1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“.  (تفسير ابن كثير  :5/ 388)ترجمہ: ” بے شک  میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“.  (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال  :11/ 464)ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت ✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے  پانچ موطن (نشأتیں)  ✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة  للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں! ✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة  للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم ✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ  غلامی کا شاخسانہ✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام ✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛  آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے رحم دل ہونے کا استدلال درست نہیں!✔️  انسانیت دشمن طاقت سے مقابلہ اور مزاحمتی شعور بھی رحم دلی ہے✔️ عدم تشدد کے پہلے بنیادی نکتے کی سیرت النبیؐ کی روشنی میں وضاحت؛ ظالم کے خلاف نظریہ مزاحمت کی اساس پر مستقل و مستحکم جدوجہد✔️ عدم تشدد کا دوسرا مرحلہ؛ نظریے کی اساس پر نظم و ضبط، جماعت سازی اور اجتماعیت کا قیام ✔️ رحمة للعالمین کا تقاضا‘ سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر دینِ اسلام کو باطل ادیان پر غالب کرنا✔️  رحمة للعالمین کے مظاہر سے مسلمہ امت کی پہلو تہی ✔️ عصری تقاضا؛ رحمت للعالمین کا درست فہم اورانسانی سماج کی تعمیر نو کے لیے شعوری مزاحمت اور جدوجہد  کی ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضے | 14-08-2026 20.08.2026 1h 15min
    فرعونیت کے خلاف موسوی جدوجھد کے تسلسل میں علماء حق کی جدوجہد آزادی کی اہمیت اور قومی بیداری کے تقاضےخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 30؍ صفر المظفّر 1448ھ /14؍ اگست 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیاتهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰى‌ۘ (15) اِذۡ نَادٰٮهُ رَبُّهٗ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى‌ۚ‏(16) اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘(17) فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ(18) وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ(19)سورۃ النازعات:79 (15-19)ترجمہ: کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے؟ جب کہ مقدّس وادی طُویٰ میں اس کے ربّ نے اُسے پُکارا۔ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ پس کہو: کیا تیری خواہش ہے کہ تُو پاک ہو؟ اور میں تجھے تیرے ربّ کی طرف راہ بتاؤں کہ تُو ڈرے؟۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇00:00 آغاز00:52 انسان کا مقام: خلیفۃ الارض04:43 مقامِ عبدیت (عباد اللہ) اور اس کا حقیقی مفہوم08:17 انبیائے کرامؑ کی دعوتِ توحید اور غیر اللہ سے آزادی کا تصوّر11:19  رسولِ اکرمﷺ کی جدوجہد اور حضرت موسیٰؑ کی قرآنی تمثیل12:56  حضرت موسیٰؑ کا پہلا مشن: بنی اسرائیل کی قومی آزادی16:48 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا پہلا فرعونی وار: ذاتی احسانات کا بوجھ ڈالنا18:52 حضرت موسیٰؑ کو جدوجہدِ آزادی سے روکنے کا دوسرا فرعونی وار: انفرادی لغزش کی بنیاد پر دھمکی اور دباؤ قائم کرنا20:57 حضرت موسیٰؑ کا عظیم طرزِ عمل: اجتماعی اور قومی مفاد پر انفرادی فائدے کو قربان کرنا25:01  انبیائے کرامؑ کا نمونہ اور موجودہ دور کے تعلیم یافتہ طبقے کا المیہ28:31  انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی نکتہ: دور کے ظالمانہ نظام  سے آزادی دلانا30:41  برّعظیم پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے استحصالی کردار کا جائزہ36:19 برّعظیم پاک و ہند پر برطانیہ کے ظالمانہ قبضے کا دور39:46 برّ عظیم پاک و ہند کی آزادی کے لیے علمائے حقہ کے کردار کا اجمالی تعارف43:03  جدوجہدِ آزادی کے سرخیلِ اوّل: امام شاہ عبدالعزیزؒ44:24 برّعظیم پاک و ہند کے مسلم دورِ حکومت میں غیر مسلم رعایا کے ساتھ عادلانہ سلوک کے مثبت نتائج48:00 برّعظیم پاک و ہند میں جدوجہد آزادی کا علمائے حقہ کے ذریعے انیسویں صدی عیسوی میں آغاز50:52 جدوجہدِ آزادی میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کا عظیم کردار اور موجودہ تعلیمی نظام کا مجاہدینِ آزادی کے تعارف سے چشم پوشی کا رویہ54:00  79 سالہ آزادی کی تاریخ اور موجودہ نو آبادیاتی نظام کا سفّاکانہ رویّہ58:16  یومِ آزادی کو بطور یومِ محاسبہ منانے کی ضرورت و اہمیت01:03:01  ملکِ عزیز میں تعلیم، صحت اور معیشت کے میدان کی تشویش ناک صورتِ حال پر غور وفکر01:07:04  ملکی وقار اور سلامتی میں قومی سوچ اور قومی خودمختاری کی اہمیت01:08:49  تاریخِ جدوجہد آزادی کی بنیاد پر نوجوانوں کے سامنے قومی سوچ اور وقار پیدا کرنے کا تقاضابروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضے | 14-08-2026 16.08.2026 1h 30min
    عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی آلہ کار لیڈر شپ کی پیروی کے نقصانات اور حصول آزادی کے قومی تقاضےخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 30؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 14؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:آیتِ قرآنی:وَوَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ. (2 -البقرہ:170)ترجمہ : ” اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ“ ۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ 14 اگست خطے کی آزادی و حریت کا دن اور حقیقی آزادی و قربِ الہی کے لیے انبیاؑ کا کردار  ✔️ انسان کی عزت اور شرف‘ صرف اللہ کی بندگی اختیار کرنے میں ہے ✔️ امام شاہ عبدالعزیزؒ کے ہاں تخلیق انسانیت کے تناظر میں انسانی مساوات کا بنیادی اصول اور حکمران کا بنیادی فریضہ؛ طبقاتی نظام کا خاتمہ اور مساوات کا قیام✔️ دائرہ تخلیق اور دائرہ تدبیر میں فرق کے تناظر میں حق معیشت میں مساوات اور درجات معیشت میں تفاوت کے قرآنی اصولوں کی وضاحت اور ریاست کی ذمہ داری✔️ آزادی و حریت‘ انسان کا خمیر اور بنیادی فطرت اور  حقِ معیشت میں مساوات ریاستی حق‘ اس پر عقیدہ کا کوئی جبر نہیں!✔️ ​​ انبیاؑ‘ عقل و شعور  کی تعلیم  اور آزادی و حریت کی دعوت دینے کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے✔️سب سے بڑی غلامی اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور مراکز کو تسلیم کرنا نیز انبیاؑ کی فطری بنیادوں پر ایک مرکزِ ہدایت (توحید) کی دعوت✔️ توحیدِ باری تعالی کے دوعقلی و منطقی تقاضے؛ حلال طیب زرق (وسائلِ معاش) کا حصول اور معاشی زندگی میں حلال اور طیب اشیاء کا استعمال✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں احکاماتِ الہی کی اتّباع اور مشرکین کی اپنے آباؤاجداد کی غلط روش پر قائم رہنے کی ہٹ دھرمی✔️ ان آیات کے شانِ نزول میں قریش اور یہودیوں کا اپنے بے عقل اور بے علم رہنماؤں کی اتباع پر اصرار✔️ قرآن کا غور و فکر پر مبنی سوال؛ عقل اور ہدایت سے محروم  آباء و اجداد کی پیروی کی جائے گی؟ ✔️ راہِ ہدایت کی دو صورتیں نیز  عقل اور ہدایت سے محروم  آباء و اجداد قابلِ اتّباع نہیں!✔️ عقل سے عاری اور ہدایت سے خالی بے شعور افراد‘  جانوروں،  گونگے، بہرے اور اندھوں کی مانند  ہیں✔️ حضرت شیخ الہند ؒکے نزدیک علم کے حصول کے لیے ذرائعِ علم کے آزاد ہونا لازم و ضروری✔️ غلام قوموں کا مرض: صحیح رائے کے اظہار سے دوری، درست علم سے لاتعلقی اور آنکھوں پر خواہشات کی پٹی بندھ جانا✔️ نوجوان نسل میں اپنے آباؤ و اجداد کو احمق سمجھتے ہوئے سچے رہنماؤں سے لاتعلقی اختیار کرنے  کا بڑھتا مرض نیز  آباء واجداد کی پیروی کا درست قرآنی فہم اور حضرت ابراہیمؑ کے اسوۂ حسنہ کا تعارف✔️ اپنی دھرتی، سچے رہنماؤں  اور آباؤاجداد سے رشتہ توڑنے کا نتیجہ‘ بدیسی طاقتوں کی غلامی اور نوجوان نسل کی گمراہی (مولانا سندھیؒ کا مکہ کی سیاسی حیثیت کا تجزیہ)✔️ حضرت ابراہیمؑ اعلی درجے کے عقل مند اور ہدایت یافتہ امام انسانیت اور حضور اکرم ﷺشبیہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام✔️ ہدایت یافتہ اور عقل مند سچے رہنماؤں کی اتباع  کی روشنی میں برعظیم میں ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ اور محمدیہ کے تحت حکمرانوں، محدثین و فقہا اور اولیاءاللہ کے کردار کا جائزہ✔️ پیروی کے لائق یہ سچے رہنما ہیں نہ کہ عقل سلیم سے عاری اور ہدایت و شعور سے خالی غدّار، آلہ کار اور ملک دشمن لیڈر شپ!✔️ غلامی کے دور میں حریت پسند علماء اور سچے رہنماؤں کا بے لاگ کردار✔️ انگریز کا ہندوستان میں بیٹھ کر عرب پر قبضہ نیزآلہ کار تجارتی کمپنیوں کی تشکیل، سیاسی  پارٹیوں کے ذریعے نظام پر تسلط اور بالآخر زمینی حقائق کے برعکس پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا جائزہ✔️ معاہدات واتحاد کی قرآنی اساسیات نیز عقل اور ہدایت کے برخلاف عالمی سامراجی معاہدات و اتحاد میں شرکت کا تاریخی اور حالیہ مکہ معاہدے کا شعوری جائزہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی | 07-08-2026 12.08.2026 59min
    *انتشاری فکر و فاسد نظام کے مقابل صالح تمدن کی تشکیل کے رہنما اصولوں پر فکری تربیت و تشکیل کی دینی رہنمائی*خطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 23؍ صفر المظفّر 1448ھ /7؍ اگست 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیتلَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(11)سورۃ الرعد:13 (11)ترجمہ: ہر شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں، اس کے آگے اور پیچھے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔  انبیائے کرامؑ کا مقصدِ بعثت: فاسد تمدن کے بالمقابل صالح تمدن کا فروغ✔  عقیدہ توحید بطور معاشرتی فساد کے اِزالہ کا ذریعہ✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیتِ قرآنی کی وضاحت✔ تمدن کے فروغ اور انسانی ضروریات کی تکمیل میں انسانی عقل کا کردار✔ اجتماعیت کے فقدان کا لازمی نتیجہ: مایوسی اور لاقانونیت✔ لاقانویت اور انتشار کا لازم و ملزوم تعلق✔ انبیائے کرامؑ کی جدوجہد کا بنیادی اُصول: صبر اور نظم و ضبط✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی نمایاں خرابی: معاشرے میں انتشار اور بدنظمی کو فروغ✔ قانون کی پاسداری کا یورپین فریب اور عالمی انتشار میں مغربی طاقتوں کا کردار✔ عالمی طاغوتی طاقتوں کی دنیا بھر کے آزاد اور خودمختار معاشروں میں انتشار کی سیاہ تاریخ✔ صالح فکر اور تربیت کی بجائے ’ردّعمل‘ پر قائم جماعتوں اور تحریکات کے انسانی معاشروں پر منفی اثرات کا جائزہ✔ سیرت رسول اکرمﷺ کی روشنی میں سماجی تبدیلی کا طریقہ کار: عدمِ تشدد✔ عرب اور افریقہ میں ’افراتفری‘ اور ’ردّعمل‘ کی بنیاد پر پنپنے والی تحریکات کے نتائج کا مطالعہ✔ ملکی سیاسی جماعتوں کی غلط احتجاجی حکمت عملی کے معاشرتی نقصانات✔ سماجی تبدیلی کے لیے مسلمہ اصول: صالح فکر، جماعت سازی اور عدمِ تشدد✔ عالمی استحصالی نظام کا افراتفری کو فروغ دینے کی حکمت عملی اور مسلمان ممالک کی بے شعوری✔ عالمی خیراتی اداروں اور این جی اوز کا انسانی ہمدردی کا دوہرا معیار✔ انقلاب کے عنوان سے افراتفری اور انتشار کی منفی حکمت عملی کا جائزہ✔ فاسد نظام کی تبدیلی کا درست لائحہ عمل اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں
  • فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے | 07-08-2026 09.08.2026 1h 46min
    فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضےخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر  نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات✔️ تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست✔️ تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری✔️ نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ✔️ سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت✔️ سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات✔️ قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست✔️ قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار✔️ قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت✔️  قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں✔️ سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ✔️ حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت ✔️ تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ✔️ اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی✔️ آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے ✔️ معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار✔️ اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب✔️ قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا ✔️ قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث✔️ نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے✔️ مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے ✔️ بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظام✔️ رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو ایک جسم (ریاستی تمدّن کی شناخت) کی مانند  قرار دیا ہے✔️ امام شاہ ولی اللہؒ نے  مختلف ملتوں کی اساس پر چاروں ارتفاقات کے چاروں دائروں کے نظام پر گفتگو کی ہے ✔️ ملتِ حنیفیہ کی اساس پر رسول اللہؐ کے چاروں ارتفاقات سے متعلق جامع احکامات اور عملی کردار   ✔️ دین اسلام کے غلبے کے دور میں ملت حنیفیہ (قرآن و سنت) کی اساس پر ایک ہزار سال تک خیر پر مبنی ارتفاقاتِ اربعہ کا نظام قائم رہا✔️ اجتماعی معاملات میں غور و فکر اور تدبیر کے خیر ہونے کی تین اساسیات: انسانی معروفات، صدقات، اصلاح بین الناس نیز اس کے متضاد شرّ کی تین بنیادیں✔️ گزشتہ تین سو سال سے خیر کے بجائے فساد اور شرّ کی بنیاد پر غلامی کا بیوروکریٹک اور عدالتی نظام مسلط✔️ صالح معیاری نظام کے چار رہنما اصول؛ آزادی، عدل، امن اور معاشی خوشحالی✔️ نظام کی خرابی لیکن آئین کے درست ہونے کے داخلی تضاد کا جائزہ ✔️ درست نظام کے چار خط و خال نیز اغیار کے غلامانہ تعلیمی نظام، غیر ملکی زبان اور توہم پرستی مقننہ و عدلیہ وانتظامیہ کے فرد اور نظام پر اثرات✔️ نئے انتظامی یونٹس (ضلعوں اور صوبوں) کی تشکیل جغرافیائی، سماجی اور فطری اصولوں کی بنیاد پراختیارات و ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے ✔️ نئے نظام کے قیام کے لیے اپنے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے✔️ حقیقت پسندی کی اساس پر collapse نظام کا شعوری جائزہ اور نئے نظام کے قیام کے لیے ملتِ مصطفویہ کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت | 31-07-2026 05.08.2026 46min
    قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورتخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 16؍ صفر المظفّر 1448ھ /31؍ جولائی 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیاتاِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُۚ-وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى(23) اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘(24) فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠(25)سورۃ النجم:53 (23-25)ترجمہ: یہ تو صِرف نام ہی نام ہیں جو تُم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جِن پر خُدا نے کوئی سَنَد بھی نہیں اُتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پَیروی کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے ربّ کے ہاں سے ہدایت آ چکی ہے۔ پِھر کیا انسان کو وُہی مِل جاتا ہے جس کی تمنّا کرتا ہے؟ پس آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔  انبیائے کرامؑ کی تعلیمات بطور حقیقت شناسی کا پیغام✔  حضرت آدمؑ کی مخلوقات پر برتری کی وجہ: کائناتی حقائق کا عِلم✔ کائنات کی مرکزی حقیقت کا ادراک اور عقیدہ توحید کی اہمیت✔ حقائق اور ہدایت کی بنیاد پر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور ان کے مقابل وساوس و توہّمات کا بے بنیاد نظام✔ خطبے میں مذکور آیت کی روشنی میں ’ہوائے نفس‘ کی وضاحت✔ ’ہدایت‘ کی حقیقت اور اس کا تاریخی تسلسل✔ جاہلیت کے حامل  معاشرے کا توہمات کے ساتھ لازم و ملزوم تعلق✔ ملکی سیاسی مسائل کے حل کی بابت مقتدرہ کی سیاسی توہمات پر مبنی غیر شعوری تجویز کا تجزیہ✔ ماہِ صفر المظفّر میں موجود معاشرتی توہمات کا تحلیل و تجزیہ✔ سیاسی توہمات پر مبنی استحصالی کاروبار کے ظالمانہ نظام کا جال✔ ملکی استحصالی نظام کی تباہ کاریاں اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والی مقتدرہ کے غلط رویے✔ پُر فریب نعروں کی جھنکار میں ظالمانہ نظام کی اسّی سالہ تاریخ کا تجزیہ✔ حقیقت پسندی پر مبنی شعوری فکر اور جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
  • اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ | 31-07-2026 04.08.2026 1h 50min
    اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 16؍صفرالمصفر ۱۴۴۸ھ / 31؍ جولائی 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ اِنَّمَا  اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ  لِکُلِّ  قَوۡمٍ  ہَادٍ (13 -رعد:7)ترجمہ : ”تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“ ۔2۔ اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ  مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ (28 -قصص:76)ترجمہ : ”قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر“۔حدیثِ نبویﷺ:وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:”خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ، وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ“. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ". ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”معاملے پر غور و فکر کر، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر “۔  (مشکوٰۃ المصابیح :5057)🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کامیاب اور کچھ اس کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال کر گمراہ✔️ قرآنِ حکیم کا بنیادی موضوع‘ اقوامِ عالم نیز گزشتہ انبیاء کی تعلیمات فرد، خاندان اور قوم کی ترقی اور کامیابی کے لیے تھیں✔️ تورات اور قرآن کی تعلیمات اور حضرت موسیٰؑ و حضورؐ کی جدوجہد  کا دائرہ کار✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی دو آیات کی روشنی میں قومی و بین الاقوامی نظام کے خط و خال اور تشکیل✔️ آپؐ کا ہدف؛ قومی تعصبات سے بالاتر تعلیم و تربیت، جماعت کی تیاری اور قومی اساسیات✔️ زوال کا سبب؛ قومی مفادات کے اجتماعی نظام سے بغاوت اور اغیار کی آلہ کاری ✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کی قومی شناخت توڑنے والے قارون کا منفی اور باغیانہ کردار کا ذکر✔️ باغی کی وضاحت کے تناظر میں قارون کی قومی بغاوت، حضرت موسیٰؑ کی توہین اور تعلیمات کے انکار کی سزا کا تفصیلی جائزہ✔️ قارون کی طرح مکہ و طائف کے سرداروں کا حضورؐ سے حسد و بغض، قومی بغاوت کا ارتکاب، ابوطالب سے شکایت اور آپؐ کی بشارت✔️  کلمۂ طیبہ؛ قومی و بین الاقوامی ترقی کا مکمل عنوان نیز آپؐ کے قومی ترقی اور انسانیت دوستی کے بین الاقوامی پروگرام پر قریش کا اظہارِ تشویش✔️ عرب اور اقوامِ عالم کے مفادات کا شعور اور آپؐ کے سگے رشتے داروں کی قومی بغاوت، توہین پر مبنی رویے اور انسانیت دوست اور قومی و بین الاقوامی ترقی کی تعلیمات کا انکار ✔️ نبوی شعور اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر عربوں و ترکوں کی ہزار سالہ حکومت میں ہر قوم کے مفادات کی حفاظت ✔️ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی حیدرآباد دکن کے غیر مسلم راجہ کی دلجوئی اور علاؤ الدین خلجی سے مال کی واپسی✔️ تجارت کے نام پر یورپین بھیڑیوں کی وسائل کی لوٹ مار اور عرب مسلم تاجروں کا دیانت پر مبنی کاروبار✔️ مغل حکمرانوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کو بلا تعصب تجارت کی اجازت لیکن ان کی بغاوت و غداری✔️ پورپین بھیڑیوں کے مدد گار اور معاون غدّار اور قوم سے بغاوت کرنے والے قارون صفت عناصر  ✔️ خطہ کشمیر جنت نظیر میں حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی صحبت سے اسلام کی اشاعت، ریاستی شناخت اور قومی طاقت پیدا ہوئی✔️ 1846ء میں معاہدہ امرتسر میں  ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ  کا 16 لاکھ  نانک شاہی کے عوض انگریز سے کشمیر کی خرید اری اور کشمیری عوام کا اذیت ناک و الم ناک دور کا آغاز✔️ مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت اور الجھاؤ کی بنیادی وجہ ✔️ خطبے کی مرکزی حدیث کے تناظر میں امورِ حکمرانی میں مشاورت و تدبیر کی اہمیت نیز  مسئلہ کشمیر کے تاریخی حقائق پرکھنے اور سمجھنے کے لیے تدبیر کی دعوتِ فکر✔️ انگریز کا  ڈیوائیڈ اور رول کی اساس پر ہندو مسلم سکھ  دراڑ کا اوچھا ہتھکنڈا اور آزادی کے نام پر متحدہ ہندوستان کی ظالمانہ تقسیم✔️ نیشنلزم اور مکمل آزادی (تدبیر) کے علی الرغم‘ ’’غَيًّا‘‘ (گہری کھائی)  کی اساس پر تقسیمِ ہند اور عرب خطوں کی بندر بانٹ نیز غدار اور قارون صفت باغی قیادت کا تسلط✔️ ’’غَيًّا‘‘ کی اساس پر ہندوستان کی ریاستوں کی تقسیم کا فارمولہ اور کشمیر کی تباہی  و بربادی کا آغاز✔️ خطہ کشمیر کا الجھاؤ؛ شملہ معاہدہ کی اساس پر کشمیر زیرِ تصفیہ علاقہ، استصوابِ رائے کے لیے بارہ سیٹوں کا الجھاؤ، ایکشن کمیٹی کا احتجاج اور حکومتی  تشدد ✔️ ریاستی مشینری اور کشمیر کے اسٹیک ہولڈر کو عقل و شعور اور تدبیر کی دعوتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • اَکْل بِالبَاطِل‘ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر | 24-07-2026’ 28.07.2026 57min
    ”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکرخطبہ جمعۃ المبارکحضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہ نما قرآنی آیاتیٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)سورۃ  النساء 4: (29-30) ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ ✔  انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام✔  معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام  کی زبوں حالی✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (�)  آئیکون کو دبادیں۔منجانب: رحیمیہ میڈیا
  • شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ | 24-07-2026 27.07.2026 1h 28min
    شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 09؍صفر المظفر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:آیتِ قرآنی:اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَا  اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖوَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ.(2 -البقرہ:174)ترجمہ : ”بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول، وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ، اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے عذاب دردناک“۔حدیثِ نبویﷺ:”مَن كتمَ علمًا ألجمَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ بلجامٍ من نارٍ “. (كنز العمال :10/ 217)ترجمہ: ”جس نے علم چھپایا تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا“.🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ کتاب مقدس‘ انسانیت کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ✔️ انبیائے کرامؑ کا ہدف‘ انسانوں کو تعلیم یافتہ بنانا✔️ حقیقی علم کی تعریف نیز علمِ الٰہیات کی عظمت و جامعیت✔️ حصولِ علم کے تین ذرائع؛ عقل، نقل اور کشف✔️ علمی ذرائع سے ملّتیں اور شرائع و مناہج بننے کا عمل✔️ قرآن حکیم‘ وحی الہی کے علوم کا جامع ترین ایڈیشن✔️ حقیقی اور قابلِ عمل علم جو انسانی زندگی کے تمام مراحل میں فائدہ مند ہو✔️ علمِ نبوت؛ اقترابات و ارتفاقات کا جامع ترین علم✔️ انبیاءؑ تعلیم و تربیت پر اجر کا مطالبہ نہیں کرتے✔️ حصولِ علم‘ ہر انسان کا بنیادی حق و فریضہ نیز اس کی ادائیگی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری✔️ مسلم دورِ عروج کے ہزار سال میں تعلیم اور صحت‘ ریاست کی ذمہ داری✔️ زوال پذیر اقوام کا بنیادی مرض‘ کتمانِ علم اور تعلیم کا معاوضہ طلب کرنا✔️ وسائل پر قبضے کی ہوس، لالچ اور بھوک کے مرض میں مبتلا اقوام و ممالک✔️ یورپی اقوام کا مسلمانوں کے علوم اور ریسرچ کو دنیا سے چھپانا✔️ گزشتہ تین سو سال سے علومِ انبیاءؑ اور کتبِ الہیہ کے احکامات کے کتمان کی روش✔️ قرآن و حدیث کی روشنی میں کتمانِ علم کی سخت وعید اور سزائیں✔️ سرمایہ و محنت کی اساس پر سرمایہ داری اور سوشلزم کو شرعی دلائل سے ثابت کرنے کا غلط فہمی پر مبنی بیانیے کا جائزہ✔️ حقیقی علم کے کتمان اور انسانیت دشمن علم کے فروغ کا عصری جائزہ✔️ 1857ء کے بعد علماءِ حق کا خطے کے حقیقی علوم کو محفوظ کرنا✔️ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، علم بیچنے کا کاروبار اور عوام کی عطیہ کردہ زمینوں پر قائم اسکول و کالجز کو ٹھیکے پر دینے کے علم دشمن عمل کا جائزہ✔️ پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر اساتذہ اور والدین کا استحصال اور کتمانِ علم ✔️ مدارس کا رسمی نصاب‘  سماجیات، سیاسیات اور معاشیات سے خالی✔️ کتمان علم کی بڑی بھیانک مثال‘ سرمایہ داری کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا✔️ آزاد ممالک میں مقامی طریقہ ہائے علاج کا فروغ اور سرمایہ دار ممالک میں جبری پابندی✔️ ادویات پر ریسرچ کے حقیقی نتائج کو چھپانے کا عمل✔️ حقیقی علم کے کتمان کی مجرمانہ روش اور تعلیم و صحت کے قومی نظام کی عصری ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
  • تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائی | 17-07-2026 25.07.2026 59min
    تعیش پسند فساد پیشہ طبقے کی شناخت اور اس کے خلاف شعوری مزاحمت: سماجی بقا کے لیے قرآنِ حکیم کی رہنمائیخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 2؍ صفر المظفّر 1448ھ /17؍ جولائی 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہ نما قرآنی آیتفَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(116)سورۃ  ھود 11: (116)ترجمہ: سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو تم سے پہلے تھیں؟ جو ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے، جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا، اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہی لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھیں،  اور وہ مجرم تھے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔  معاشرے میں خیر کے غلبہ اور شر کے خاتمہ کی اہمیت✔  امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا  اساسی فہم و شعور✔ خطبہ میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت✔ منکر کے خلاف مزاحمتی شعور کا اجتماعی فائدہ✔ معاشرے میں فساد فی الارض کے تعین اور اس کے خلاف شعور کی قرآنی منشا✔ اُخروی کامیابی کے لیے پاکیزہ کردار کی بنیادی شرط✔ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کی اہمیت✔ مُلکِ عزیز میں فساد فی الارض کے حقیقی اسباب کا جائزہ✔ ملکی فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے بھیانک اثرات✔ فساد فی الارض پر مبنی ظلم پیشہ طبقات کے ہتھکنڈے✔ معاشرے کے حقیقی مجرمین (ملاء و مترف) کی شناخت اور ان کے خلاف شعور کا نبوی طریقہ کار✔ تفقّہ (سیاسی شعور) کے بغیر نیکی کا  اثر✔ فساد فی الارض کا اصل سبب: عالمی سرمایہ دارانہ نظام✔ منکرات اور فساد فی الارض کی موجودگی میں نیکی کے تصوّر کا جائزہ✔ ملکِ عزیز میں انسانی حقوق کے تحفّظ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی ناگفتہ بہ صورتِ حال✔ سماجی جدوجہد میں عدمِ تشدّد کی حکمتِ عملی کی اہمیت✔ سرمایہ پرست ذہنیت سے شعوری مزاحمت کی حکمت عملی کی افادیت✔ صبر و استقلال کے ساتھ فساد فی الارض کے خلاف جدوجہد کا نبوی اسوہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Priljubljen v

Ta podkast je tudi v lestvicah podkastov teh držav.